The Minim Blogger Template: A Perfect Blend of Simplicity and Style
کراچی: میڈیکل بورڈ نے آرزو راجا کی عمر کا تعین کر لیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آرزو کیس کی سماعت ہوئی،درخواست گزار آرزو کو شیلٹر ہوم سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسلام قبول کرنے والی آرزوراجا کی میڈیکل رپورٹ آ گئی ہے جس کے مطابق ان کی عمر 14 سے 15 سال ہے۔عدالت نے آرزو سے سوال کیا کہ آپ نے کسی دباؤ میں اسلام قبول کیا ہے ؟ آرزو نے عدالت میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں میں نے کسی کے دباؤ میں اسلام قبول نہیں کیا۔
آرزو سے متعلق میڈیکل بورڈ کی سیلڈ رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔پانچ رکنی بورڈ نے آرزو کی عمر کا تعین کیا۔عدالت نے آرزو سے سوال کیا کہ کیا آپ والدین کے پاس جانا چاپتی ہیں؟ جس پر آرزو فاطمہ نے روکر عدالت کو جواب دیا کہ اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں ،سندھ ہائیکورٹ نے آرزو کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم دے دیا۔
اور کہا کہ صرف ان لوگوں کی آرزو ملاقات کرائی جائے جن سے وہ ملنا چاہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے آرزو کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی آرزو راجہ کو بازیاب کروا کر 5 نومبر تک شیلٹر ہاؤس بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ آرزو فاطمہ کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا تھا کہ پولیس نے لڑکی کو تلاش کیا مگر وہ کہیں نہیں ملی۔ لڑکی کے والدین نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ آرزو کو بازیاب کروایا جائے اور اس کے طبی معائنےکا حکم دیا جائے۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے لڑکی بازیاب ہوجائے پھر میڈیکل کا حکم دے سکتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ پولیس اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آرزو راجہ کو بازیاب کروا کر شیلٹر ہاؤس بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے لڑکی کو 5 نومبر کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔
Comments
Post a Comment